بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے منگل 29 ستمبر 2026ع کو غیر ملکی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی عوام کے نام سپاہ پاسداران کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس خط میں امریکہ کی شکستوں ناکامیوں کی وجہ اور ایران جیسے ممالک کے سامنے امریکی فوج کی بے بسی کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ ہم امریکی عوام سے چاہتے ہیں کہ وہ خط کو پڑھ لیں تاکہ ان شکستوں کی حقیقت اور وجہ سے واقف ہو جائیں۔
بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کی پریس کانفرنس کے اہم نکات:
• دنیا میں امریکی پرچم کیوں جلتا یا پامال ہوتا ہے؟ امریکی صدر کو سفر کے لئے اتنے سخت حفاظتی انتظامات کیوں درکار ہوتے ہیں؟
• امریکی فوج جرائم کا بیج بوتی ہے اور نفرت کی فصل کاٹتی ہے۔
• دنیا کے تمام مسائل کا سرچشمہ امریکہ ہے۔
• امریکی نوجوان پوچھ لیں کہ گذشتہ 70 سالوں میں امریکہ نے متعدد ممالک پر حملے کئے ہیں؛ امریکہ کو بے گناہوں کے قتل عام سے کیا حاصل ہؤا؟
• پوچھ لیں کہ امریکی جارحیتوں سے بڑھتے قرض، عالمی نفرت اور اپنے شہریوں کے لئے غیر محفوظ ماحول بنانے کے سوا، کیا کچھ حاصل ہؤا؟
• جان لیں کہ واشنگٹن کی بیرون ملک جنگوں اور کشت و خون کے اخراجات کا بوجھ امریکی ٹیکس دہندگان کو اٹھانا پڑتا ہے۔
• امریکہ غزہ، لبنان اور دیگر علاقوں میں صہیونی اقدامات کی حمایت کیوں کرتا ہے؟
• غزہ میں 21 ہزار سے زائد بچے امریکی فراہم کردہ ہتھیاروں سے مارے گئے؛ امریکہ خود مجرم بھی ہے، حمایتی بھی اور ہتھیار فراہم کرنے والا بھی۔
• "اول امریکہ" کے نعرے کے باوجود اسرائیل کو ترجیح کیوں دی جا رہی ہے؟
• امریکی عوام جان لیں کہ غزہ میں ہزاروں اسکول، اسپتال، یونیورسٹیاں، مساجد اور کلیسیائیں تباہ کی گئیں۔
• اگر امریکہ اپنے جنگی اخراجات کا 5 یا 10 فیصد حصہ غزہ کی تعمیر نو پر لگا دے تو امریکہ دنیا کا مقبول ملک بن جائے گا۔
• وقت آ گیا ہے کہ امریکی حکمران اپنی پالیسیاں بدل دیں اور امریکی عوام جنگ، قتل،جارحیت، لوٹ مار اور نسل کشی چھوڑنے کا مطالبہ کریں۔
• امریکہ انصاف اور دوسروں کی مدد سے دنیا میں محبوب بن سکتا ہے، جارحیت اور انسانوں کے قتل عام سے سے نہیں۔
سپاہ کا 25 صفحات پر مشتمل خط غیر ملکی صحافیوں کو پیش کیا گیا
سپاہ پاسداران کے ترجمان نے بتایا کہ تیار کردہ خط 25 صفحات پر مشتمل ہے اور اس نشست میں صحافیوں کو پیش کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے صحافیوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آپ آزاد خواتین و حضرات اس خط کو بلا کم و کاست، امانت داری کے ساتھ اور پوری قوت سے اس کے مخاطبین تک پہنچائیں گے۔
بریگیڈیئر جنرل محبی نے ان صحافیوں کو خراج تحسین پیش کیا جو مختلف جنگوں میں دنیا کے عوام تک حقائق پہنچانے کے لئے محاذ جنگ پر شہید ہوئے؛ اور کہا: ان صحافیوں کو اس لئے قتل کیا گیا تاکہ وہ حقائق منتقل نہ کر سکیں، لیکن صحافیوں کی آزادی کی روح ختم نہیں کی جا سکتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ